اوورسیز پاکستانی آرائیں خاندان: اپنی جڑوں سے رشتہ کیسے قائم رکھیں
بیرونِ ملک پلنے والے بچوں کو اپنی زبان، رشتوں اور آبائی گاؤں سے جوڑے رکھنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔
آج ہماری برادری کے ہزاروں خاندان خلیجی ممالک، برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں آباد ہیں۔ انہوں نے بڑی محنت سے وہاں اپنا مقام بنایا ہے اور پاکستان میں اپنے گھر والوں کا سہارا بھی بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک فکر تقریباً ہر اوورسیز گھرانے میں سنائی دیتی ہے: ہمارے بچے اپنی جڑوں سے کتنے جڑے رہیں گے؟
زبان سب سے مضبوط پل ہے
جو بچے گھر میں اردو یا پنجابی سنتے اور بولتے ہیں وہ پاکستان آ کر دادا دادی اور کزنز کے ساتھ آسانی سے گھل مل جاتے ہیں۔ جو بچے صرف انگریزی یا مقامی زبان بولتے ہیں، ان کے لیے یہ رشتے آہستہ آہستہ اجنبی ہو جاتے ہیں۔ چند آسان طریقے:
- گھر میں کم از کم ایک وقت کا کھانا اپنی زبان میں گفتگو کے ساتھ کریں۔
- بچوں کو اردو کہانیاں اور نظمیں سنائیں، اور دادا دادی سے ویڈیو کال پر کہانی سنوائیں۔
- ہفتے میں تھوڑا وقت اردو پڑھنے لکھنے کے لیے رکھیں۔ بہت سے شہروں میں مساجد اور کمیونٹی سینٹرز اس کی کلاسیں کرواتے ہیں۔
رشتہ داروں سے باقاعدہ رابطہ
ویڈیو کال نے فاصلے کم کر دیے ہیں، لیکن رابطہ تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب وہ باقاعدہ ہو۔ عید، شادیوں اور خاص موقعوں پر بچوں کو کال میں شامل کریں۔ اگر ممکن ہو تو ہر چند سال بعد بچوں کو پاکستان لے کر آئیں اور انہیں صرف شہر نہیں بلکہ اپنا آبائی گاؤں، کھیت اور بزرگوں کی قبریں بھی دکھائیں۔ یہ یادیں عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔
خاندانی تاریخ محفوظ کریں
بچوں کو بتائیں کہ ان کے پردادا کہاں سے آئے تھے، 1947 میں خاندان پر کیا گزری اور بزرگوں نے کس محنت سے زندگی بنائی۔ بزرگوں کی آواز میں یہ باتیں ریکارڈ کر لیں اور پرانی تصاویر کو اسکین کر کے محفوظ کر لیں۔ ایک سادہ سا خاندانی شجرہ بنانا بھی بچوں کے لیے بہت دلچسپ ہوتا ہے۔
آبائی علاقے کی خدمت
اوورسیز پاکستانی پہلے ہی اپنے خاندانوں کی بہت مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ مدد منظم طریقے سے کی جائے تو پورے علاقے کو فائدہ ہو سکتا ہے، جیسے کسی ہونہار بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھانا، گاؤں کے اسکول یا ڈسپنسری میں حصہ ڈالنا، یا نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے پروگرام میں مدد کرنا۔ رقم ہمیشہ بینک کے ذریعے بھیجیں اور جس مقصد کے لیے دی ہے اس کا حساب ضرور لیں۔
نوجوانوں کے لیے رہنما
بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے یا اچھی نوکریوں پر کام کرنے والے نوجوان پاکستان کے طلبہ کے لیے بہترین رہنما بن سکتے ہیں۔ آن لائن ایک گھنٹے کی گفتگو کسی طالب علم کو یونیورسٹی کے انتخاب، وظیفے یا کیریئر کے بارے میں وہ رہنمائی دے سکتی ہے جو اسے کہیں اور نہیں ملتی۔
برادری سے جڑے رہیں
آرائیں کمیونٹی پاکستان چاہتی ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے خاندان بھی برادری کی خبروں، پروگراموں اور فلاحی کاموں کا حصہ رہیں۔ اگر آپ بیرونِ ملک مقیم ہیں تو ACP کے ساتھ رجسٹر ہوں، اپنے شہر اور ملک کا ذکر کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ برادری کے لیے کس طرح کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ فاصلے زیادہ ہو سکتے ہیں، مگر رشتے دل سے جڑے ہوں تو کمزور نہیں ہوتے۔

